زیارت رسول ﷺ

تبصرہ اویسی غفرلہ:
                        یہ ایک مسلّم حقیقت ہے جس کا نہ سابق دور میں کسی کو انکار تھا نہ دورحاضرہ میں کسی مدعی اسلام کو انکار ہے کہ انسان کی روح نہیں مرتی وہ جیسے عالم بالا سے جلوئہ ربانی کی حیثیت انسان کے بدن میں آئی ویسے ہی جسم سے نکل کر عالم بالا میں چلی گئی اورکافر کی روح سجین میں مقید ہوگئی ۔ اس کی تحقیق فقیر کے رسالہ ”روح نہیں مرتی “ میں پڑھئے ۔
                        عام انسان کی روح جسم سے نکل جانے کے باوجود (علیین میں ہو جیسے اہل ایمان کی روح یا سجین میںجیسے کفار کی روح ) قبر میں پڑے ہوئے جسم سے قوی رابطہ رہتاہے جیسے بجلی کاکرنٹ ، کہ جونہی قبر پر جانے والا جاتاہے اوراسے سلام کرتاہے توروح اسے جانتی پہچانتی اورسلام کا جواب دیتی ہے ۔ تفصیل دیکھئے فقیر کا رسالہ ”روح جانتی پہچانتی ہے “ ۔
مرنے کے بعد اجسام کی کیفیت:
                        اہلسنّت کے نزدیک انبیاءعلیٰ نبیناوعلیہم السلام کے اجسام مبارکہ مع الروح حیاة حسّی حقیقی کے ساتھ مزارات میں زندہ موجود ہوتے ہیں ان پر موت کاورود ہوا لیکن صرف ایک آن کے لئے پھر ان کی ارواح ان کے اجسام میں واپس تشریف لاتی ہےں۔ اما م احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ نے حدائق بخشش میں فرمایا
  انبیاءکو بھی اجل آنی ہے
مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
                        اس کی مفصل شرح فقیر کی تصنیف ”الحقائق فی الحدائق جلد نمبر۰۱ “ میں پڑھئے ،مخالفین تما م انبیاءعلیہم السلام کی حیاتِ برزخی کے قائل ہیں بلکہ ان کے بعض اتنا بے باک ہیں کہ کُھلم کھلا کہہ دیتے ہیں کہ وہ مرکر مٹی میں مل گئے ۔(معاذ اللہ)
احادیث حیات الانبیاء(علیہم السلام)
حدیث شریف بخاری ومسلم میں اس طرح ہے (۱)
 قال رسول اللّٰہ من رانی فی المنام فسیر انی فی الیقظة ولا یتمثل الشیطان بی ۔
                        حضور نے فرمایا جس نے سوتے میں میری زیارت کی تو عنقریب جاگتے میں بھی میری زیارت سے مشرف ہوگا۔ شیطان کوشش کے باوجود بھی میری شکل اختیار نہیںکرسکتا ہے ۔
 (بخاری شریف ج۲ص۵۳۰۱۔مسلم شریف ج۲ص۲۴۲)
فائدہ: یہ حدیث اپنے مفہوم میں اتنی واضح ہے کہ اس کا انکار صرف وہی شخص کرے گا جس کے دل پر مہر لگ چکی ہوگی ۔ اس حدیث شریف سے چھ باتیں ثابت ہوئیں ۔
۱) شیطان عالم خواب اور بیداری میں حضور کی شکل اختیار نہیں کرسکتاہے ۔
۲) سوتے اور جاگتے میں جس نے حضور کی زیارت کی ۔ وہ حضورہی کی زیارت سے مشرف ہوا۔ کسی خبیث جن یا شیطان کو اس نے نہیں دیکھا۔
۳) یہ فرمانِ عالی تمام امت ِمسلمہ کے لئے نوید اوربشارت ہے ۔ چاہے وہ صحابہ کرا م ہوں یا پندرہ سو سال بعد آنے والا امتی ۔ کیونکہ سرکار نے یہ نہیں فرمایا کہ اے میرے صحابہ یہ فرمان صرف تمہارے لئے ہے ۔ تمہارے بعد والے امتیوں کے لئے نہیں ۔
۴) جس نے سرکار کی خواب میں زیارت کی تو سرکار کو اس بات کا علم ہوجاتاہے کہ وہ میری زیارت کررہا ہے ۔ اسی لئے توجاگتے میں بھی اس کو اپنی زیارت سے مشرف فرماتے ہیں ۔
۵ ) یہ حدیث حیات النبی کی بہت بہترین دلیل ہے کہ قبر انور میں جانے کے بعد بھی جہاں چاہنا اورجس کو چاہنا زیارت کروادینا یہ حضو ر کے لئے ممکن ہی نہیں بلکہ ثابت بھی ہے جیسا کہ بے شمار بزرگانِ دین کے واقعات مشہور اور برزبانِ خلقِ خدا ہیں ۔
 ۶) یہ نہیں فرمایا کہ جس نے خواب میں میری زیارت کی تو جاگتے میں فقط ایک مرتبہ ہی میری زیارت سے مشرف ہوگا بلکہ مفہوم حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس نے خواب میں ایک مرتبہ زیارت کرلی توجاگتے میں اسے ضرور زیارت نصیب ہوگی ۔ اب یہ سرکار کے کرم پرمنحصر ہے کہ جاگتے میںکتنی مرتبہ زیارت کرواتے ہیں ۔

۷) جب حضو ر نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارا صلوٰة وسلام مجھ پر پیش کیا جاتاہے اورمیں اسے سنتا ہوں اوراس کا جواب بھی دیتاہوں توصحابہ کرام نے عرض کیا کہ سرکار کیا بعد الوصال بھی ؟ (آپ ہمارے درود وسلام کو ملاحظہ فرمائیں گے ) توسرکار نے ارشاد فرمایا:
 ان اللّٰہ عزوجل حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاءصلوٰة اللّٰہ علیھم ۔
ترجمہ: بیشک اللہ عزوجل نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاءکے جسموں کو کھائے ۔
(ابو داود ص۵۱ج ۱، مسند امام احمد ص۸ج۴


قابل توجہ امر یہ ہے کہ روح بھی سنتی ہے اوربرزخی حیات کا تعلق بھی درحقیقت روح کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اگر چہ جسم گل سڑ بھی کیوں نہ جائے لیکن روح باقی رہتی ہے ۔اس لئے صحابہ کرام کے جواب میں حضور فقط اتنا بھی فرما سکتے تھے کہ ہاں میں تمہارے صلوٰة وسلام کو سنوں گا۔ یعنی میری روح سُنے گی مگر ان کے جواب میں یہ فرمانا کہ اللہ عزوجل نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے ۔ یہ اس بات پر دلالت کرتاہے کہ قبر انور میں جانے کے بعد انبیاءکرام کی حیات فقط برزخی نہیں بلکہ دنیاوی وجسمانی بھی ہے اور وہ اپنے کانوں سے سنتے ہیں۔
                        خلاصہ یہ کہ انبیاءکرام علیہم السلام کے اجسام صحیح وسالم رہنے پر احادیث صریحہ دال ہیں جن کا کسی طرح انکار نہیں کیا جاسکتا۔
غیب کا جاننے والا وہی ہے ، سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ہاں ، مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو ( سورہ جن 26

، اور اللہ تعالٰی ایسے امور غیبیہ پر تم کو مطلع نہیں کرتے لیکن ہاں جس کو خود چاہیں اور وہ اللہ تعالٰی کے پیغمبر ہیں ، اُن کو منتخب فرمالیتے ہیں ۔ (سورہ آل عمران 179... See More )
پھر یہی نہیں کہ صرف یہ بات کہی گئی ہو اور علم غیب عطا نہ کیا گیا ہو ، نہیں نہیں ، اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو یہ علم عطا بھی فرمایا جس کا قرآن حکیم میں تفصیل سے ذکر ہے ، مثلاً یہ آیات ملاحظہ فرمائیں :
1، اور علم دے دیا اللہ تعالٰٰی نے آدم کو سب چیزوں کے اسماء کا پھر وہ چیزیں فرشتوں کے رُوبرو کردیں ( سورہ بقرہ 31 )
2، حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے فرمایا:
اور جو بھی منظور ہوا ان کو تعلیم فرمایا ( سورہ بقرہ 251)
3، حضرت سلیمان علیہ السلام نےاس علم غیب کا یوں ذکر فرمایا :
اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی کی تعلیم کی گئی ہے اور ہم کو ہر قسم کی چیزیں دی گئی ہیں (سورہ نمل 16 )
4، حضرت لوط علیہ السلام کے لئے فرمایا :
اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا فرمایا ( سورہ انبیاء 74 ایضاً )
5، حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے فرمایا :
اور وہ بلاشبہ بڑے عالم تھے بایں وجہ کہ ہم نے ان کو علم دیا تھا لیکن اکثر اس کا علم نہیں رکھتے ( سورہ یوسف 68 )
6، حضرت یعقوب علیہ السلام نے خود بھی اپنے بیٹوں کے سامنے اس عطائے ربّانی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :
کیوں ، میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ( سورہ یوسف 96 )
7، حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے فرمایا :
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا ( سورہ یوسف 22 ایضاً)
8، اور حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے فرمایا :
اور جب اپنی بھری جوانی کو پہنچے اور درست ہوگئے ،ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا (سورہ قصص 14 ایضاً)
9، اور حضرت خضر علیہ السلام کے لئے فرمایا :
انھوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جن کو ہم نے اپنی خاص رحمت دی تھی اور ہم نے ان کو اپنے پاس سے خاص طور کا علم سکھایا تھا ( سورہ کھف 65 ایضاً)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ نبیوں کو ‘‘علم غیب ‘‘ عطا فرمایا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان حضرات قدسیہ نے کبھی کبھی اس علم کا اظہار بھی فرمایا جیسا کہ قرآن کریم میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اپنے پیروکاروں سے یہ ارشاد فرما رہے ہیں :
10، اور میں تم کو بتلا دیتا ہوں جو کچھ اپنے گھروں میں کھاتے ہو اور جو رکھ آتے ہو ( سورہ آل عمران 49)
یعنی جس جس نے جو کچھ اپنے گھر میں کھایا اور جو کچھ گھر میں رکھا سب آپ کی نظر میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت یوسف علیہ السلام قید خانے میں قیدیوں کو خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے فرما رہے ہیں :
11، جو کھانا تمھارے پاس آتا ہے جو کہ تم کو کھانے کے لئے ملتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے اس کی حقیقت تم کو بتلا دیتا ہوں ، یہ بتلا دینا اس علم کی بدولت ہے جو مجھ کو میرے رب نے تعلیم فرمایا ہے ( سورہ یوسف 37
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ رسولوں کو علم غیب عطا فرمایا ہے ، اس عطائے خاص سے انکار ، قرآن سے انکار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ علم کوئی معمولی علم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑے اہتمام اور تیاری کے بعد عطا فرمایا جاتا ہے اور جس کو عطا فرمایا جاتا ہے اس کے آگے اور پیچھے فرشتوں کے پہرے لگا دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارشاد فرماتا ہے ۔
سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ، ہاں ،مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو تو ، اس (پیغمبر) کے آگے اور پیچھے محافظ (فرشتے) بھیج دیتا ہے ۔(سورہ جن26، )۔
بے شک جس کو یہ علم عطا کیا گیا اس کو بہت کچھ عطا کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو یکساں ‘‘علم غیب ‘‘ حاصل نہیں بلکہ جس طرح انبیاء و رسل میں درجات (سورہ بقرہ 253) ہیں اس طرح علم غیب بھی درجہ بدرجہ عطا کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن حکیم سے اس کی تصدیق ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور حضرت موسٰٰی علیہ السلام نے وہ علم غیب سیکھنے کی درخواست کی جو اللہ نے اُن کو عطا فرمایا تھا ، حضرت خضر علیہ السلام نے درخواست منظور کی مگر یہ ھدایت فرمائی کہ دیکھتے جانا ، بولنا نہیں ،جب تک میں نہ بولوں ( سورہ کھف 70) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت خضر علیہ السلام جو کچھ کرتے گئے ،حضرت موسٰٰی علیہ السلام نہ سمجھ سکے ،آخر رہا نہ گیا ،پوچھ لیا ،حضرت خضر علیہ السلام نے راز سے پردہ اٹھا دیا مگر پھر حضرت موسٰٰی علیہ السلام کو ساتھ نہ رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ پوری تفصیل قرآن حکیم میں موجود ہے(سورہ کھف 65، 82۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کو یکساں ‘‘علم غیب ‘‘ نہیں دیاگیا

اذان سے قبل درود شریف







درود شریف
درود فارسی زبان کا لفظ ھے۔ جسکے معنی دعاکے ھیں۔ عربی میں اسے صلوۃ کہتے ھیں۔ یہ اگر اللہ کی طرف سے ھوتو رحمت۔۔ ۔۔۔ فرشتوں کی طرف سے ھوتو استغفار۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ انسانوں کی طرف سے ھوتو دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیوانوں کی طرف سے ھوتو تسبیح۔۔۔۔۔۔۔۔۔( فیروزاللغات فارسی)

" بیشک اللہ اور اسکے فرشتے درود بھیجتے ھیں اس نبی پر اس لیے اے ایمان والو تم بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر درود اور خوب سلام بھیجو۔"( سورۃ احزاب آیت نمبر 56)

اس آیت سے پتہ چلتا ھےکہ اللہ اور اسکے فرشتے بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر درود بھیجتے ھیں۔ اور ھمیں بھی درود اور سلام بھیجنے کا حکم فرماتے ھیں۔

ایک بار درود شریف پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ھیں۔ دس گناہ معاف ھوتے ھیں اور دس درجات بلند ھوتے ھیں۔
جب بھی مجلس میں بیٹھیں تو ایک بار لازمی درود شریف پڑھیں ۔
جمعہ کے دن بکثرت درود شریف پڑھناچاھييے۔
ھم کو صلوۃ اور سلام کاحکم دیا گیاھے۔ درود شریف مکمل وہ ھے جسمیں صلوۃ اور سلام دونوں ھوں۔ نماز میں درود ابراہیمی میں سلام نہیں ھےکیونکہ سلام پہلے التّحیات میں( السّلام علیک ایّھاالنّبی ) ھوچکا ھوتاھے۔ مگر نماز کے باہر وہ درود پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں درود اور سلام دونوں ھوں۔ کیونکہ ھمیں درود اور سلام کا حکم دیاگياھے۔

اذان سے قبل درود شریف

" ابو داؤد شریف میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے روایت کی ھےکہ مدینے میں میرا مکان بلندترین مکانوں میں سے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ اذان سے قبل چند کلمات دعائیہ کہہ کر پھر اذان دیتے تھے۔وہ کلمات دعائيہ یہ ھیں۔
ترجمہ:" اے اللہ عزّوجل تحقیق میں تیری حمد کرتاھوں تجھ سے مدد چاہتاھوں، اس بات پرکہ اہل قریش آّپ کے دین کوقائم کریں۔
اس سے ثابت ھواکہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نماز سے پہلے دعا مانگاکرتے تھے۔ جبکہ درود اور صلاۃ کا مطلب بھی دعا ھے تو پھر دعا کوئ بھی ھو مانگی جاسکتی ھے۔ پھر وہ دعا کیوں نہ کریں جس کو اللہ اور اسکے فرشتے خود بھی کرتے ھیں اور ایمان والوں کوبھی کرنے کا حکم کرتے ھیں۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ھےکہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم میں آپ پر درود پڑھتاھوں تو کتنا درود مقرر کروں؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا جتنا چاھو۔۔۔۔ میں نے عرض کیا چہارم؟ فرمایا جتنا چاھو۔۔۔۔۔ اگر درود بڑھادو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ھے۔۔۔۔ میں نے کہاکیاآدھا۔۔۔؟ فرمایا جتنا چاھو اگر درود بڑھادو تو یہ تمہارے لیے بہتر ھے۔۔۔ میں نے کہا میں سارا درود ہی پڑھوں گا۔۔۔۔ فرمایا۔۔۔ تب تمہارے غموں کو کافی ھوگا اور تمہارے گناہ مٹ جائیں گے۔"( ترمذی، مشکوۃ شریف)

ہر اس مجلس میں جس میں باربار حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کا نام آتاھو اس میں ایک بار درود شریف پڑھنا واجب ھے

حدیث شریف ھےکہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایاکہ قیامت کے دن تین شخص عرش الہی کے سایہ میں ھونگے۔ جس دن اسکے سایہ کے بغیر اور کوئ سایہ نہیں ھوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم وہ خوش نصیب کون ھونگے؟ فرمایاکہ
پہلا وہ جس نے میرے کسی مصیبت زدہ امتی کی پریشانی دور کی۔
دوسرا وہ جس نے میری سنّت کو زندہ کیا۔
تیسرا وہ شخص جس نے مجھ پر درود پاک کی کثرت کی۔( القول البدیع ص 123، سعادۃ الدّارین ص 63)

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ھےکہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو خطبہ دیتے ھوۓ دوران خطبہ فرماتے سنا، بندہ جب تک مجھ پر درود پاک پڑھتا رہتاھے اللہ تعالی کے فرشتے اس پر رحمتیں نازل کرتے رہتے ھیں۔ اب تمہاری مرضی ھےکہ تم مجھ پر درود پاک کم پڑھو یا زیادہ۔ (القول البدیع ص114)

نبی صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ مجھ پر بلند آواز سے درود شریف پڑھنا نفاق کو دور کرتاھے۔( مکارم الاخلاق ص 116 مطبوعہ مصر

Deo k Gandy Bachon k Fatway ha ha ha

Ya RasoolUllah (S.A.W) Kehna Kaisa hy ??











Eid Milaad ko Bidat kehnay Waly jan lain

HUZOOR SAAW KAY MELAD PER BIDDAT KA SHOAR KERNAY WALLAY KAASH APNAY ROZ MARRAH KAY MAAMOOLAT PER AGAR AIK NAZAR DAALAIN KEH DINN KA KITNA HISSA USSY STYLE AUR USSY TARZ PER GUZARTAY HAIN , TO SHAID AAP KO CHAND LAMHAT BHEE NA MILL SAKAIN.

KIYUN KEH YEH JAG MAG KERTAY AALISHAN GHER JAHAN BIJLI , GAS , JADEED LIGHTS, FRIDGE , TV, MOBILE PHONES , COMPUTERS, AALISHAN GAARRIYAN ( CARS) AUR HAZZAAR HA ROZ MARRAH KAY ISTIMAL KE ASHIYA AUR ASAISHAIN SAHABA KARAM RA NAY TO KABHI BHEE ISTIMAL NAHI KEEN. HATTA KEH KHANAY PEENAY MAIN BHEE PEPSI COKE YA 7UP AUR DEEGAR MASHROOBAAT AUR BAY SHUMAR DEEGER KHANAY SAHABA KARAM KE ZINDGI KA KABHI HISSA NA THAY. HATTA KEH HASOOL E AMADANI KAY TAREEQAY , JADEED IDDARON MAIN MAKHLOOT TAALEEM , BANKON KA QAIYAM AUR ROPAY AUR SIKKON PER PAKISTAN MAIN QUID E AZAM AUR SAUDI ARAB MAIN WAHAN KAY FERMA RAWA KEE TASAAWEER BHEE TAB NA THEEN. CARD PRINT KERWA KER INVITE KERNA AUR PHIR PUR TAKALAF SALGIRAH , MEHNDI AUR SHAADI KE JAG MAG KERTEE TAQREEBAAT BHEE NAHIN HOTEE THEEN. YEH JADDEED IJADAAT KAY NAAM PER HAZZAR HA BIDDATAIN TAFSEEL SAY LIKHNAY LAGAIN TO ISS KAY LIYAY HAZARON SAFHAT CHAHIYAIN.

DEEN BHEE AB TO USS SHAKAL MAIN NAHIN HAY, MASLANQURAN: PRESS PER CHAPNAY WALA AUR 30 PARAY AUR RAKOO AUR ZAIR ZABAR KAY SAATH TAB NA THA
HADEES: BUKHARI SHAREEF , MUSLIM SHAREEF AUR DEEGAR KUTAB E AHADEES BHEE USS DAUR MAIN NA
THEEN. HATTA KEH HADEES KE AQSAM KA ZIKER TO QAROON E SALASAH MAIN BHEE NAHIN
MILTA.
NAMAZ: AARAISH YAFTA , CARPETED AUR AIR CONDITIONED MASJADAIN JINN MAIN MEHRAB AUR MENAAR BHEE BANAY HOAN , YEH SAB TAB NA THEEN. MIKE AUR SPEEKER PER AZAN , NAMAZ AUR BIYAN BHEE AAJ KAY DAUR KE PAIDAWAR HAY.
ROZA: GARRHI DAIKH KER SEHRI AUR AFTAARI KERNA.

ZAKAT: BANKON MAIN ZAKAT KE KATOTI.

HAJJ: JAHAZON MAIN AUR BUSSON MAIN BAITH KER SAFAR KERNA , WAHAN JADDEED AUR AIRCONDITIONED HOTELON MAIN QAYAM, SANG E MARR MAR PER TAWAF AUR SAEE, AIR CONDITIONED SAFA MARWA, BUSS PER BAITH KER MAIDAN E ARAFAT JANA AUR MINNA KAY AIR CONDITIONED KHAIMAY AUR BOHAT KUCH.

HATTA KEH AAJ KAY DEENI IDARON MAIN PERHAY JANAY WALAY ALOOM JAISAY SARF, NAHAW, ILM E HADEES AUR DEEGAR BHEE ISS SHAKAL MAIN NA THAY.

BAL KEH SHABA KARAM RA NAY KABHI BHEE ISHTIHAR CHAPWA KER ISS TARAH KAY PROGRAMMON KA IHTIMAMA BHEE NA KIYA THA JAISAY AAJ KAL HOTAY HAIN MASALAN;
SEERAT CONFRENCE
AZMAT E UMM UL MOMMINEEN CONFRENCE
AZMAT E SAHABA CONFRENCE
SHOHDA CONVENTION
SUNNY CONFRENCE
AHLE HADEES CONFRENCE
JAHAD FEE SABEELILLAH CONFRENCE
MEHFL E HUSN E QIRRAT WAGHAIRA WAGHAIRA ...............

JISS TARAH PAKISTAN MAIN 14 AUGUST KO JASHAN E AZADI MANAEE JATEE HAY, ISSI TARAH SAUDI ARAB MAIN QAOMI DINN KO EID UL WATANI KEHTAY AUR MANATAY HAIN. ISS ROZ MULK BHER MAIN CHARAGHAN BHEE HOTA HAY AUR MUKHTALIF TAQAREBAAT BHEE HOTEE HAIN. HALAN KEH SAHABA KARAM NAIN KABHI BHEE YOME FATAH MAKKAH YA MADINA NA MANAYA THA. JO LOAG PAKISTAN MAIN EID E MELAD MANNANAY WALON SAY POOCHTAY HAIN KEH YEH TEESRY EID KAHAN SAY AYEE, WOHI LOAG CHOON KEH SAUDI ARAB SAY FUND KHATAY HAIN , ISS LIYAY WAHAN UNN KO ISS EID PER MUBARIK BAD KAY PAIGHAM BHAIJTAY HAIN. ( HADIYA E TEHNIAT , ABDUL REHMAN SALFI, ITWAR 2 RABI UL AWAL, 23 SEPTEMBER 1990, ROZNAMA JANG, KARACHI)
AUR TO AUR MODOODI AUR MUFTI MEHMOOD KE BARSI KE TAQAREBAAT BHEE MUNAQAD KE JAATI HAIN AUR YEH BIDDAT NAHI HOTEEN. YAAD RAKHAIN JABB TAK BIDDAT KO SAIYA AUR HASSANA MAIN TAQSEEM NAHIN KARAIN GAY TO KUCH BHEE NAHI BACHAY GA. AUR YEH TAQSEEM SYEDNA UMER E FAROOQ RA NAY HE KER DE THEE.
HUZOOR SAAW KAY MELAD KA CHARCHA TO TAMAM AMBIYA ALAIH E SALAM BHEE KERTAY AAYAY HAIN, FARQ SIRF YEH HAY KEH WO KEHTAY THAY KEH HUZOOR SAAW AA REHAY HAIN AUR HAM CHARCHA KERTAY HAIN KEH HUZOOR SAAW AA GAYAY HAIN. ALLAH PAK NAY BHEE UNN KE AAMAD KO APNA FAZLAN KABEERA KAHA. AUR UNN KAY CHARCHAY BULAND KERNAY KE ZUMADARI BHEE " WA RAFAANA LAKA ZIKRAK" KEH KER KHUD UTHA LEE.

" AQAL HOTTEE TO KHUDA SAY NA YOON LARRAEE LAITAY
YEH GHATTAAIN, USSAY MANZOOR BARHANA ISS KA"

WAISAY TO AAQA ALAIHE SALAWTO SLAM KAY MELAD KE MAHAFIL, ALHAMDO LILLAH, SARA SAAL HEE JAARI REHTI HAIN LAIKEN RABI UL AWAL MAIN YEH RONQAIN APNAY AROOJ PER HOTEE HAIN. AUR MELAD KE MAHAAFIL MAIN TILAWAT, NAAT KHAWANI, DUA, AUR KHANA YA RALLY MAIN SAY KUCH BHEE BIDDAT NAHI. ALLAH AUR ALLAH KAY HABIB KAY ZIKER KE MAHAAFIL AUR MAJALIS KE FAZEELAT AUR BARKAT SAY KUTAB E AHADEES BHARRI PARI HAIN.

2+2=4 WALA FORMULA......... AGAR HUZOOR SAAW KE SHAN BARRHANAY WALI BAAT SUN KER YA MOHABAT BERRHANAY WALA AMAL DAIKH KER DILL KE KALLI KHILL UTHAY TO JAAN LAIN KEH AAP SAHIB E EMAN HAIN AUR AGAR ISS SAY TABIYAT PER BOJH AA JAAYAY TO SAMJH LAIN KEH MUNAFQAT KA PAODA JERR PAKAR RAHA HAY KIYOON KEH BAQOL IQBAL,

" ROOH E EMAN, MAGHZ E QURAN, JAAN E DEEN
HAST HUBB E REHMATALIL AALAMEEN"

Azan sy Qabal Droud Perhna Kaisa hy ??